صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۵ - حج تمتع اور احرام کا حکم

حج تمتع کی حدیث: احرام، عمرہ اور قربانی کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۵

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صُبْحَ رَابِعَةٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ لَا يَخْلِطُهُمْ شَيْءٌ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً ، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا فَفَشَتْ فِي ذَلِكَ الْقَالَةُ ، قَالَ عَطَاءٌ : فَقَالَ جَابِرٌ : فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى ، وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا ، فَقَالَ جَابِرٌ بِكَفِّهِ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهِ لَأَنَا أَبَرُّ وَأَتْقَى لِلَّهِ مِنْهُمْ ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لأَحْلَلْتُ ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ لَنَا أَوْ لِلْأَبَدِ ، فَقَالَ : لَا ، بَلْ لِلْأَبَدِ ، قَالَ : وَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَقُولُ لَبَّيْكَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَقَالَ الْآخَرُ : لَبَّيْكَ بِحَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَأَشْرَكَهُ فِي الْهَدْيِ .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے جس کے ساتھ کوئی اور چیز (عمرہ) نہ ملاتے ہوئے (مکہ میں) داخل ہوئے۔جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کر ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ (عمرہ کے افعال ادا کرنے کے بعد حج کے احرام تک) ہماری بیویاں ہمارے لیے حلال رہیں گی۔ اس پر لوگوں میں چرچا ہونے لگا۔ عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کچھ لوگ کہنے لگے کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے کہ منی اس کے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ جابر نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے زیادہ نیک اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جو اب معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ اس پر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! کیا یہ حکم (حج کے ایام میں عمرہ) خاص ہمارے ہی لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (یمن سے) آئے۔ اب عطاء اور طاؤس میں سے ایک تو یوں کہتا ہے علی رضی اللہ عنہ نے احرام کے وقت یوں کہا تھا۔ «لبيك بما أهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏» اور دوسرا یوں کہتا ہے کہ انہوں نے «لبيك بحجة رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں (جیسا بھی انہوں نے باندھا ہے) اور انہیں اپنی قربانی میں شریک کر لیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حج تمتع اور احرام کا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی ذی الحجہ کی صبح صحابہ کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے مکہ تشریف لائے۔ جب سب مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ حج کے احرام کو عمرہ بنا دیا جائے۔ عمرہ کے اعمال کے بعد احرام کھولنے اور بیویوں کے ساتھ تعلق کو حلال ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ کچھ لوگوں کو اس بات پر اشکال ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ آپ ان سے زیادہ نیک اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ اگر قربانی کے جانور ساتھ نہ ہوتے تو آپ بھی احرام کھول دیتے۔ سراقہ رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا کہ یہ حکم صرف اس وقت کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس لیے حج میں عمرہ، احرام کھولنے کا حکم، اور قربانی کا جانور ساتھ ہونے کی حالت اس حدیث کے اہم مضمون ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بعد صحابہ نے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دیا۔
  • عمرہ مکمل ہونے کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہوئیں اور بیویوں کے ساتھ تعلق حلال ہوا۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ شرعی اجازت کو کم تقویٰ نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • قربانی کا جانور ساتھ ہو تو احرام پر قائم رہنے کا حکم اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں