صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۴ - غلام کی آزادی اور شراکت کا حکم

غلام کی آزادی: مشترک غلام کے حق کا واضح حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۴

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُعْتِقَ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ، وَإِلَّا يُسْتَسْعَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی (ساجھے کے) غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو پورا غلام آزاد ہو جائے گا۔ ورنہ باقی حصوں کو آزاد کرانے کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں اس پر کوئی دباو نہ ڈالا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۴ کا خلاصہ

یہ حدیث غلام کی آزادی اور شراکت کے معاملے میں ایک صاف اصول بتاتی ہے۔ اگر کسی شخص کا کسی غلام میں حصہ ہو اور وہ اپنا حصہ آزاد کر دے، تو بات صرف اس کے حصے تک محدود نہیں رہتی۔ حدیث کے مطابق اگر اس شخص کے پاس مال ہو تو پورا غلام آزاد کیا جائے گا۔ یعنی باقی شریکوں کے حصوں کا معاملہ بھی مالی طور پر پورا کیا جائے گا۔ اور اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو غلام سے باقی حصوں کی ادائیگی کے لیے کام کرایا جائے گا، مگر اس پر سختی یا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ اس میں غلام آزاد کرنے کی حدیث، مشترک غلام کا حکم، شراکت میں غلام کی آزادی، اور اسلام میں غلام کے ساتھ نرمی جیسے اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ آزادی کے معاملے کو مکمل کیا جائے، لیکن کمزور پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کرنے سے پورے غلام کی آزادی کا معاملہ پیدا ہوتا ہے۔
  • اگر آزاد کرنے والے کے پاس مال ہو تو باقی حصوں کی ادائیگی اسی کے مال سے ہو گی۔
  • اگر مال نہ ہو تو غلام سے کمائی کرائی جا سکتی ہے، مگر اس پر سختی نہیں کی جائے گی۔
  • مالی معاملات میں حق بھی دیکھا جائے گا اور کمزور انسان پر نرمی بھی رکھی جائے گی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں