صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۲ - آزادی میں نرمی اور عدل
غلام کی آزادی کی حدیث: قیمت میں عدل اور دباؤ سے بچنا
صحیح بخاری : ۲۴۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۲
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكِهِ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْمَمْلُوكُ قِيمَةَ عَدْلٍ ، ثُمَّ اسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مال سے غلام کو پوری آزادی دلا دے۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو انصاف کے ساتھ غلام کی قیمت لگائی جائے۔ پھر غلام سے کہا جائے کہ (اپنی آزادی کی) کوشش میں وہ باقی حصہ کی قیمت خود کما کر ادا کر لے۔ لیکن غلام پر اس کے لیے کوئی دباو نہ ڈالا جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۲ کا خلاصہ
یہ حدیث غلام آزاد کرنے کے باب میں عدل اور نرمی کا بہت صاف اصول دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کرے، تو اگر اس کے پاس مال ہو تو اسے اپنے مال سے غلام کو پوری آزادی دلانی چاہیے۔ اگر اتنا مال نہ ہو تو غلام کی قیمت انصاف کے ساتھ لگائی جائے، پھر غلام سے کہا جائے کہ باقی حصہ کمانے کی کوشش کرے، لیکن اس پر سختی نہ کی جائے۔ اس میں آزادی کا راستہ بھی ہے، شریکوں کے مالی حق کا لحاظ بھی ہے، اور غلام پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالنے کی ہدایت بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلام کی آزادی کے معاملے میں مالی انصاف رکھا گیا۔
- قیمت کا اندازہ انصاف کے ساتھ لگانے کا حکم دیا گیا۔
- غلام کو باقی قیمت کمانے کی کوشش کا کہا گیا، مگر سختی سے منع کیا گیا۔
- شریعت نے شریکوں کے حق اور کمزور کے حال دونوں کا خیال رکھا۔
