صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۱ - مشترک غلام کی آزادی
مشترک غلام آزاد کرنے کی حدیث: انصاف کے ساتھ آزادی
صحیح بخاری : ۲۴۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۱
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ مِنْ عَبْدٍ أَوْ شِرْكًا أَوْ قَالَ نَصِيبًا وَكَانَ لَهُ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ فَهُوَ عَتِيقٌ ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " ، قَالَ : لَا أَدْرِي قَوْلُهُ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ، قَوْلٌ مِنْ نَافِعٍ أَوْ فِي الْحَدِيثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مشترک (ساجھے) کے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس کے پاس سارے غلام کی قیمت کے موافق مال ہو تو وہ پورا آزاد ہو جائے گا۔ اگر اتنا مال نہ ہو تو بس جتنا حصہ اس کا تھا اتنا ہی آزاد ہوا۔ ایوب نے کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں کہ روایت کا یہ آخری حصہ ”غلام کا وہی حصہ آزاد ہو گا جو اس نے آزاد کیا ہے“ یہ نافع کا اپنا قول ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں داخل ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مشترک غلام کی آزادی کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ پورے غلام کی قیمت ادا کر سکے، تو غلام پورا آزاد ہو جائے گا۔ اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو جتنا حصہ اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی آزاد ہو گا۔ روایت کے آخر میں ایوب نے احتیاط سے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آخری جملہ نافع کا قول ہے یا حدیث کا حصہ۔ اس سے ہمیں دو باتیں سمجھ آتی ہیں: ایک یہ کہ آزادی کے معاملے میں شریکوں کے حقوق کا حساب رکھا گیا، اور دوسری یہ کہ راویوں نے الفاظ میں احتیاط کو بہت اہم سمجھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک ملکیت میں کسی ایک کے عمل سے دوسرے شریک کا حق نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- اگر آزادی مکمل کرانے کی مالی طاقت ہو تو پورا بدل ادا کیا جائے۔
- حدیث نقل کرتے وقت راوی نے اپنی علمی احتیاط ظاہر کی۔
- آزادی کے معاملے میں عدل اور صحیح قیمت کا خیال رکھا گیا۔
