صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۰ - قحط میں کھجور کھانے کا ادب

قحط میں کھجور کی حدیث: کمی کے وقت انصاف

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۰

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا ، فَيَقُولُ : لَا تَقْرُنُوا ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ " .

جبلہ روایت:

ہمارا قیام مدینہ میں تھا اور ہم پر قحط کا دور دورہ ہوا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجور کھانے کے لیے دیتے تھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرتے ہوئے یہ کہہ کر جایا کرتے تھے کہ دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر نہ کھانا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوسرے ساتھی کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۰ کا خلاصہ

یہ حدیث قحط میں کھجور کھانے کے ادب کو واضح کرتی ہے۔ جبلہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ میں تھے اور قحط کا زمانہ تھا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما انہیں کھانے کے لیے کھجور دیتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گزرتے اور کہتے کہ دو دو کھجوریں اکٹھی نہ کھاؤ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ قحط میں ہر کھجور کی قیمت بڑھ جاتی ہے، اس لیے اس حدیث میں دوسروں کی ضرورت کا خیال زیادہ نمایاں ہے۔ اجازت، انصاف اور شرم و لحاظ مشترک کھانے کے اہم آداب ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تنگی کے زمانے میں دوسروں کے حق کا خیال اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔
  • اجتماعی کھانے میں اجازت کے بغیر زیادہ لینا مناسب نہیں۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم چھوٹے آداب بھی یاد دلاتے تھے۔
  • قحط میں خوراک کی تقسیم میں نرمی کے ساتھ انصاف رکھا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں