صحیح بخاری حدیث ۲۴۸۹ - دو کھجوریں ایک ساتھ نہ کھانا
دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے کی حدیث: دسترخوان کا ادب
صحیح بخاری : ۲۴۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۸۹
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرُنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ جَمِيعًا حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر (دستر خوان پر) دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر کھائے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث دسترخوان کے آداب کی حدیث ہے، خاص طور پر جب کھانا مشترک ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو کھجوریں ایک ساتھ ملا کر کھائے۔ بات کھجور کی ہے، مگر سبق بہت عام ہے۔ جب کئی لوگ ایک ہی کھانے میں شریک ہوں تو ہر شخص کو دوسروں کے حصے، ضرورت اور دل کا خیال رکھنا چاہیے۔ اجازت لے لی جائے تو معاملہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں معمولی لگنے والی چیز کے ذریعے انصاف، شرافت اور دوسروں کے حق کا احساس سکھایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک کھانے میں دوسروں کے حصے کا خیال رکھنا چاہیے۔
- زیادہ لینے سے پہلے ساتھیوں سے اجازت لینا ادب ہے۔
- چھوٹی چیزوں میں بھی انصاف اور شرم و لحاظ مطلوب ہے۔
- دسترخوان پر خود غرضی سے بچنے کا سبق ملتا ہے۔
