صحیح مسلم حدیث ۵۳۳۵ - دو کھجوریں ملا کر کھانے کی ممانعت
دو کھجوریں ملا کر کھانے کی حدیث: اجازت اور انصاف کا سبق
صحیح مسلم : ۵۳۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۳۵
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ " .
جبلہ بن سحیم روایت:
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوریں ملا کر کھانے سے جب تک اپنے ساتھیوں سے اجازت نہ لے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۳۵ کا خلاصہ
اس روایت میں حکم بہت صاف الفاظ میں آیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔ یہ بات خاص طور پر اس وقت سمجھ آتی ہے جب کھانا مشترک ہو اور سب لوگ ایک ہی جگہ سے کھا رہے ہوں۔ دو کھجوریں ملا کر کھانے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کھانے میں بھی انصاف، ادب اور دوسروں کا خیال ضروری ہے۔ یہاں اصل موضوع اجازت ہے۔ اگر ساتھی راضی ہوں تو معاملہ الگ ہے، ورنہ آدمی کو اپنے حصے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک کھانے میں دو کھجوریں ساتھ لینے سے پہلے اجازت کا ذکر آیا ہے۔
- دوسروں کے حق کا خیال کھانے کے آداب میں شامل ہے۔
- اسلام چھوٹے معاملات میں بھی انصاف اور ادب سکھاتا ہے۔
