صحیح مسلم حدیث ۵۳۳۴ - مشترک کھانے میں اجازت کا ادب
مشترک کھانے کا ادب: دو کھجوریں ساتھ نہ لینا
صحیح مسلم : ۵۳۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۳۴
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا قَوْلُ شُعْبَةَ ، وَلَا قَوْلُهُ وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ .
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا اس میں نہ شعبہ کا قول ہے نہ لوگوں پر تکلیف ہونے کا ذکر ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۳۳۴ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے مضمون ہی کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں راوی شعبہ کا قول اور لوگوں پر تنگی کا ذکر نہیں ہے۔ اصل بات وہی ہے کہ مشترک کھانے میں آدمی کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ جب کھجوریں یا کوئی کھانا سب کے لیے رکھا ہو تو دو دو کھجوریں ساتھ اٹھانا مناسب نہیں، جب تک ساتھیوں سے اجازت نہ ہو۔ اس حدیث میں مشترک کھانے کا ادب، کھانے میں اجازت، اور دوسروں کے حق کا خیال جیسے موضوعات آتے ہیں۔ اس سے ہمیں روزمرہ کی مجلسوں میں بھی سبق ملتا ہے کہ کھانے کی میز پر تہذیب صرف بڑے کاموں میں نہیں، چھوٹے عمل میں بھی ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک کھانے میں اپنا حصہ بڑھانے سے پہلے دوسروں کا خیال رکھا جائے۔
- اجازت لینے کا ادب مجلس کو خوشگوار بناتا ہے۔
- چھوٹی چیز جیسے کھجور میں بھی انصاف کا خیال رکھا گیا۔
