صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۳ - غلام کی آزادی اور مکمل آزادی کا حکم

شریک غلام کی آزادی اور عدل کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۳

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ وَجَبَ عَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ كُلَّهُ ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ قَدْرَ ثَمَنِهِ يُقَامُ قِيمَةَ عَدْلٍ ، وَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَّتَهُمْ ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ساجھے کے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر غلام کی انصاف کے موافق قیمت کے برابر اس کے پاس مال ہو تو وہ سارا غلام آزاد کرا دے۔ اس طرح دوسرے ساجھیوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کر دی جائے اور اس آزاد کیے ہوئے غلام کا پیچھا چھوڑ دیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس معاملے کا حکم بیان فرمایا کہ اگر کسی مشترکہ غلام کا ایک حصہ کوئی شخص آزاد کر دے تو اصل اصول یہ ہے کہ اگر اس کے پاس مالی طاقت ہو تو پورے غلام کو آزاد کیا جائے۔ اس کے بعد دوسرے شریکوں کو ان کا حق یعنی قیمت ادا کر دی جائے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اس سے اسلام میں انصاف اور حقوق کی ادائیگی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اگر مکمل آزادی ممکن ہو تو غلام کو آزاد کر دینا افضل عمل ہے، لیکن ساتھ ہی دوسرے مالکان کے حقوق بھی محفوظ رہنے چاہئیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلام کی آزادی میں انصاف اور حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے
  • اگر مالی طاقت ہو تو مکمل آزادی کو ترجیح دی جائے
  • دوسرے شریکوں کے حقوق ضائع نہیں کیے جا سکتے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں