صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۲ - تجارت میں برکت کی دعا
تجارت میں برکت کی حدیث: دعا، شفقت اور شراکت کا سبق
صحیح بخاری : ۲۵۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۲
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايِعْهُ ، فَقَالَ : هُوَ صَغِيرٌ ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ . وَعَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ ، فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَيَقُولَانِ لَهُ : أَشْرِكْنَا ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ ، فَيَشْرَكُهُمْ ، فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ " .
عبداللہ بن ہشام روایت:
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا۔ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے داد عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔وہاں وہ غلہ خریدتے۔ پھر عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے ملتے تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کر لو۔ کیونکہ آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا کی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن ہشام انہیں بھی شریک کر لیتے اور کبھی پورا ایک اونٹ (مع غلہ) نفع میں پیدا کر لیتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تجارت میں برکت کی دعا اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی شفقت ہے۔ عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بچپن میں اپنی والدہ کے ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس لائے گئے۔ ان کی والدہ نے عرض کیا کہ ان سے بیعت لے لیجئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ ابھی بچہ ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ بعد میں جب عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بازار جا کر غلہ خریدتے تو عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کر لو، کیونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام دعا کی برکت کو اہم سمجھتے تھے، خاص طور پر خرید و فروخت اور کاروبار میں برکت کے معاملے میں۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ شراکت داری باہمی رضامندی سے ہو سکتی ہے، جیسا کہ عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے غلے میں شریک کر لیتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کم عمر بچے سے بیعت نہ لینے کا ذکر اس حدیث میں صاف طور پر آیا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے دعا فرمائی۔
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کی برکت کو پہچانتے اور اس کا لحاظ رکھتے تھے۔
- بازار میں خریدے گئے غلے میں دوسروں کو شریک کرنا باہمی رضامندی سے ہوا۔
