صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۱ - عطا میں برکت کی دعا

اللہ کی عطا میں برکت اور اولاد کے لیے دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۸۱

حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : أَنَسٌ خَادِمُكَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ " .

انس روایت:

ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا فرمائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم أكثر ماله وولده، وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو دے اس میں برکت عطا فرما۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی درخواست کی۔ انہوں نے عرض کیا کہ انس آپ کے خادم ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی فرما، اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما۔ اس حدیث میں ایک ماں کی اپنے بچے کے لیے خیر خواہی بھی سامنے آتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بھی۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے لیے اور دوسروں کے لیے اللہ سے خیر مانگتا ہے۔ مال اور اولاد دنیا کی بڑی نعمتیں ہیں، مگر حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ان میں برکت مانگنا بھی ضروری ہے۔ اسی لیے یہ دعا مال، اولاد اور نعمتوں میں برکت کے لیے بہت مناسب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ماں اپنے بچے کے لیے خیر اور برکت کی دعا کروا سکتی ہے۔
  • مال اور اولاد میں برکت اللہ سے مانگی جاتی ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خادم کے لیے بھی محبت سے دعا فرمائی۔
  • نعمت زیادہ ہو یا کم، اس میں برکت مانگنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں