صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۳ - ثابت قدمی کی دعا

ثابت قدمی کی دعا: اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۳

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَرِيرًا ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ " ، وَهُوَ نُصُبٌ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ يُسَمَّى : الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَجُلٌ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَصَكَّ فِي صَدْرِي ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا " ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي خَمْسِينَ فَارِسًا مِنْ أَحْمَسَ مِنْ قَوْمِي ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : فَانْطَلَقْتُ فِي عُصْبَةٍ مِنْ قَوْمِي فَأَتَيْتُهَا فَأَحْرَقْتُهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا مِثْلَ الْجَمَلِ الْأَجْرَبِ ، فَدَعَا لِأَحْمَسَ ، وَخَيْلِهَا .

جریر بن عبداللہ بجلی روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی ایسا مرد مجاہد ہے جو مجھ کو ذی الخلصہ بت سے آرام پہنچائے وہ ایک بت تھا جس کو جاہلیت میں لوگ پوجا کرتے تھے اور اس کو کعبہ کہا کرتے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس خدمت کے لیے میں تیار ہوں لیکن میں گھوڑے پر ٹھیک جم کر بیٹھ نہیں سکتا ہوں آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مبارک پھیر کر دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے ثابت قدمی عطا فرما اور اس کو ہدایت کرنے والا اور نور ہدایت پانے والا بنا۔جریر نے کہا کہ پھر میں اپنی قوم احمس کے پچاس آدمی لے کر نکلا اور ابی سفیان نے یوں نقل کیا کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت لے کر نکلا اور میں وہاں گیا اور اسے جلا دیا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک میں نے اسے جلے ہوئے خارش زدہ اونٹ کی طرح سیاہ نہ کر دیا۔ پس آپ نے قبیلہ احمس اور اس کے گھوڑوں کے لیے دعا فرمائی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ثابت قدمی اور ہدایت کی دعا ہے۔ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذی الخلصہ کے بت کے معاملے میں بھیجا۔ جریر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں گھوڑے پر اچھی طرح جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ، اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔ پھر وہ اپنی قوم کے آدمیوں کے ساتھ گئے اور کام مکمل کر کے واپس آئے۔ اس حدیث میں دینی خدمت سے پہلے دعا، ثابت قدمی، ہدایت اور اعتماد کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشکل کام سے پہلے اللہ سے ثابت قدمی مانگنی چاہیے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کے عذر کو سنا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
  • ہدایت یافتہ ہونا اور دوسروں کو ہدایت کی طرف بلانا دونوں خیر کے کام ہیں۔
  • دینی ذمہ داری میں اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں