صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۱ - خیبر اور اطاعت رسول

خیبر کا واقعہ: نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم پر عمل کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۱

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَيَا عَامِرُ ، لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ، فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ يُذَكِّرُ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَكَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَكِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا السَّائِقُ " ، قَالُوا : عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ ، فَلَمَّا صَافَّ الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ ، فَأُصِيبَ عَامِرٌ بِقَائِمَةِ سَيْفِ نَفْسِهِ فَمَاتَ ، فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ " ، قَالُوا : عَلَى حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ ، فَقَالَ : " أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا " ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ : " أَوْ ذَاكَ " .

سلمہ بن الاکوع روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر گئے (راستہ میں) مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا عامر! اپنی حدی سناؤ۔ وہ حدی پڑھنے لگے اور کہنے لگے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے“ اس کے علاوہ دوسرے اشعار بھی انہوں نے پڑھے مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔اونٹ حدی سن کر تیز چلنے لگے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سواریوں کو کون ہنکا رہا ہے، لوگوں نے کہا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش ابھی آپ ان سے ہمیں اور فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر جب صف بندی ہوئی تو مسلمانوں نے کافروں سے جنگ کی اور عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی جو خود ان کے پاؤں پر لگ گئی اور ان کی موت ہو گئی۔شام ہوئی تو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ کیسی ہے، اسے کیوں جلایا گیا ہے؟ صحابہ نے کہا کہ پالتو گدھوں (کا گوشت پکانے) کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ ہانڈیوں میں گوشت ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اجازت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لیں کہ ہانڈیوں میں جو کچھ ہے اسے پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یہی کر لو۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اطاعت اور دعا ہے۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ خیبر کے سفر کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ راستے میں عامر رضی اللہ عنہ حدی پڑھ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رحم کی دعا فرمائی۔ پھر جنگ میں ان کی اپنی تلوار ان کے پاؤں پر لگی اور وہ وفات پا گئے۔ شام کو صحابہ نے آگ جلائی تو معلوم ہوا کہ پالتو گدھوں کا گوشت پک رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہانڈیوں کا گوشت پھینک دو اور ہانڈیاں توڑ دو۔ ایک صحابی نے دھو لینے کی اجازت چاہی تو آپ نے اجازت دے دی۔ اس میں حکم سن کر عمل کرنے، دعا، اور دینی ہدایت پر چلنے کا سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر صحابہ فوراً عمل کرتے تھے۔
  • دعا میں کسی مسلمان کے لیے رحمت مانگنا ثابت ہے۔
  • دینی حکم آنے کے بعد پہلے عمل کیا جاتا ہے، پھر جائز صورت پوچھی جا سکتی ہے۔
  • پالتو گدھوں کے گوشت کے بارے میں اس روایت میں منع کا حکم آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں