صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۲ - صدقہ دینے والے کے لیے دعا
صدقہ دینے والے کے لیے دعا: آل ابی اوفی پر رحمت
صحیح بخاری : ۶۳۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۲
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ مُرَّةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ ، فَأَتَاهُ أَبِي ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگر کوئی شخص صدقہ لاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اے اللہ! فلاں کی آل اولاد پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ میرے والد صدقہ لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! ابی اوفی کی آل اولاد پر رحمتیں نازل فرما۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صدقہ اور دعا ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آتا تو آپ اس کے گھر والوں کے لیے دعا فرماتے۔ جب ان کے والد صدقہ لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! آل ابی اوفی پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کے لیے خیر کی دعا کی جا سکتی ہے۔ یہاں اصل بات صدقہ، دعا، رحمت اور خیر خواہی ہے۔ نیکی کرنے والے کو اچھے الفاظ اور دعا کے ساتھ یاد کرنا بھی اس روایت سے سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دینے والے کے لیے دعا کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
- نیکی کرنے والے کے گھر والوں کے لیے بھی خیر مانگی جا سکتی ہے۔
- صدقہ صرف مالی عمل نہیں، اس کے ساتھ دعا اور خیر خواہی بھی ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیکی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی دعا سے فرماتے تھے۔
