صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۶ - تکلیف پر صبر
تکلیف پر صبر: موسیٰ علیہ السلام کے صبر کا ذکر
صحیح بخاری : ۶۳۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۶
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، وَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم فرمائی تو ایک شخص بولا کہ یہ ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ اس پر غصہ ہوئے اور میں نے خفگی کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر دیکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صبر ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم فرمائی۔ ایک شخص نے نامناسب بات کہی کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہیں۔ جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ ناراض ہوئے، یہاں تک کہ چہرے پر ناراضی کے آثار ظاہر ہوئے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ اس حدیث میں تکلیف دہ بات سن کر صبر، انبیاء کی اذیت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ انداز سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلط الزام یا تکلیف دہ بات پر صبر کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے صبر کو یاد فرمایا۔
- کسی کی نیت پر سخت بات کہنا بہت سنگین معاملہ ہے۔
- ناراضی کے باوجود صبر کی طرف رہنمائی کی گئی۔
