صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۵ - قرآن یاد دلانے والے کے لیے دعا
قرآن پڑھنے والے کے لیے دعا: رحمہ اللہ کا نبوی انداز
صحیح بخاری : ۶۳۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا فِي سُورَةِ كَذَا وَكَذَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو میں فلاں فلاں سورتوں سے بھول گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرآن اور دعا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم فرمائے، اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو میں فلاں فلاں سورتوں سے بھول گیا تھا۔ اس روایت میں قرآن کی تلاوت، مسجد میں قرآن پڑھنا، اور کسی مسلمان کے لیے رحمت کی دعا کا ذکر ہے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ قرآن سن کر یاد دہانی ہوئی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے دعا فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں قرآن پڑھنا خیر کا عمل ہے۔
- کسی مسلمان کے اچھے کام پر اس کے لیے رحمت کی دعا کی جا سکتی ہے۔
- قرآن کی تلاوت دوسروں کے لیے یاد دہانی کا سبب بن سکتی ہے۔
- اچھائی دیکھ کر اچھے الفاظ کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
