صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۲ - نماز استخارہ کی دعا

نماز استخارہ کی دعا اور فیصلہ کرنے کا مسنون طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۸۲

حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا ، كَالسُّورَةِ مِنَ الْقُرْآنِ : " إِذَا هَمَّ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي ، وَآجِلِهِ ، فَاقْدُرْهُ لِي ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي ، وَآجِلِهِ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ " .

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے، قرآن کی سورت کی طرح (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی شخص کسی (مباح) کام کا ارادہ کرے (ابھی پکا عزم نہ ہوا ہو) تو دو رکعات (نفل) پڑھے اس کے بعد یوں دعا کرے کہ اے اللہ! میں بھلائی مانگتا ہوں (استخارہ) تیری بھلائی سے، تو علم والا ہے، مجھے علم نہیں اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے، میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے یا دعا میں یہ الفاظ کہے «في عاجل أمري وآجله» تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے میرے دین کے لیے، میری زندگی کے لیے اور میرے انجام کار کے لیے یا یہ الفاظ فرمائے «في عاجل أمري وآجله» تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے (یہ دعا کرتے وقت) اپنی ضرورت کا بیان کر دینا چاہئے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے، جیسے قرآن کی سورت سکھائی جاتی ہے۔ جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نفل پڑھے، پھر اللہ سے اپنے علم، قدرت اور فضل کے وسیلے سے خیر مانگے۔ دعا میں بندہ کہتا ہے کہ اے اللہ! اگر یہ کام میرے دین، معاش اور انجام کے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، اور اگر یہ میرے لیے برا ہے تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے۔ پھر جہاں بھی خیر ہو، اسے میرے لیے مقدر کر دے اور مجھے اس پر راضی کر دے۔ یہ نماز استخارہ کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اپنی محدود سمجھ کو کافی نہ سمجھا جائے، اور خیر پر راضی ہونے کی دعا کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہم کام کے ارادے پر دو رکعت نفل پڑھ کر استخارہ کیا جا سکتا ہے۔
  • استخارہ میں اللہ کے علم اور قدرت پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔
  • بندہ اللہ سے اپنے دین، معاش اور انجام کے لیے خیر مانگتا ہے۔
  • خیر جہاں بھی ہو، اسے قبول کرنے اور اس پر راضی ہونے کی دعا کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں