صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۸ - یقین کے ساتھ دعا
یقین کے ساتھ دعا: اللهم إن شئت نہ کہا جائے
صحیح بخاری : ۶۳۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ ، وَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي ، فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے قطعی طور پر مانگے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعا میں یقین ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے قطعی طور پر مانگے، اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما، کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔ اس حدیث میں دعا کا ایک صاف ادب بتایا گیا ہے۔ بندہ اللہ سے مانگے تو سوال کو کمزور انداز میں نہ رکھے، بلکہ اللہ کی قدرت اور عطا پر یقین رکھتے ہوئے مانگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اللہ پر حق جتائے، بلکہ دعا میں سنجیدگی، یقین اور ادب ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں سوال واضح اور پختہ انداز میں کیا جائے۔
- اللہ سے مانگتے وقت اگر تو چاہے والی شرط نہ لگائی جائے۔
- اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔
- دعا میں یقین اور ادب دونوں جمع ہونے چاہییں۔
