صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۹ - مغفرت کی دعا میں یقین
مغفرت کی دعا میں یقین: اللہ سے پختہ سوال کریں
صحیح بخاری : ۶۳۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۳۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، میری مغفرت کر دے۔ بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعا میں پختگی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے، یا اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے، کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔ اس روایت میں خاص طور پر مغفرت اور رحمت کی دعا کا انداز بتایا گیا ہے۔ بندہ اللہ کا محتاج ہے، اس لیے اسے اللہ سے معافی اور رحمت کھلے دل سے مانگنی چاہیے۔ دعا میں یقین، عاجزی اور اللہ کی قدرت پر بھروسہ اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغفرت مانگتے وقت دعا کو شرط کے ساتھ کمزور نہ کیا جائے۔
- اللہ سے رحمت یقین کے ساتھ مانگی جائے۔
- اللہ کسی کے دباؤ میں نہیں، وہ اپنی شان سے عطا فرماتا ہے۔
- دعا میں عاجزی کے ساتھ پختہ سوال کرنا چاہیے۔
