صحیح بخاری حدیث ۶۳۴۰ - دعا میں جلدی نہ کرنا
دعا میں جلدی نہ کرنا: قبولیت کے معاملے میں صبر
صحیح بخاری : ۶۳۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ : دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعا میں صبر ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے، یعنی یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی مگر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ اس حدیث میں دعا کے بعد مایوسی یا جلد بازی سے بچنے کی تعلیم ہے۔ بندہ اللہ سے مانگتا رہے، مگر قبولیت کو اپنی جلدی کے مطابق نہ تولے۔ دعا میں صبر، امید اور اللہ پر بھروسہ رکھنا اس روایت کا صاف پیغام ہے۔ یہ حدیث دعا قبول نہ ہونے کی شکایت کرنے سے پہلے اپنے رویے کو دیکھنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا کے بعد جلدی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
- یہ کہنا کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی، جلد بازی کی صورت بن سکتا ہے۔
- دعا میں صبر اور امید رکھنی چاہیے۔
- قبولیت کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
