صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۱ - برکت کی دعا اور رزق میں اضافہ

برکت کی دعا اور زندگی میں رزق کی کشادگی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۱

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايِعْهُ ، فَقَالَ : هُوَ صَغِيرٌ ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ . وَعَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ إِلَى السُّوقِ فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ ، فَيَلْقَاهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَيَقُولَانِ لَهُ : أَشْرِكْنَا ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ ، فَيَشْرَكُهُمْ ، فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ " .

عبداللہ بن ہشام روایت:

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا۔ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی اور زہرہ بن معبد سے روایت ہے کہ ان کے داد عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ انہیں اپنے ساتھ بازار لے جاتے۔وہاں وہ غلہ خریدتے۔ پھر عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم ان سے ملتے تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس اناج میں شریک کر لو۔ کیونکہ آپ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا کی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن ہشام انہیں بھی شریک کر لیتے اور کبھی پورا ایک اونٹ (مع غلہ) نفع میں پیدا کر لیتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ اس دعا کا اثر بعد میں اس کی زندگی میں ظاہر ہوا کہ اس کے کام اور تجارت میں برکت پیدا ہوئی۔ یہاں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا میں برکت شامل ہوتی ہے اور اللہ جس کے لیے چاہے اس کے رزق میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہ شخص بازار میں خرید و فروخت کرتا تھا اور بعض صحابہ کرام اس کے ساتھ شریک ہو کر فائدہ حاصل کرتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اس کے لیے برکت کی دعا ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ دعا اور برکت انسان کی معاشی زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دعا میں اللہ کے حکم سے برکت شامل ہو سکتی ہے
  • برکت والے انسان کے ساتھ لین دین میں فائدہ حاصل ہو سکتا ہے
  • اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے رزق میں کشادگی پیدا کر دیتا ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں