صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۰ - قربانی کی تقسیم
قربانی کی تقسیم کی حدیث: ذمہ داری اور اجازت
صحیح بخاری : ۲۵۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۰۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا ، فَبَقِيَ عَتُودٌ ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ضَحِّ بِهِ أَنْتَ " .
عقبہ بن عامر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دی تھیں کہ قربانی کے لیے ان کو صحابہ میں تقسیم کر دیں۔ پھر ایک سال کا بکری کا بچہ بچ گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ سے فرمایا تو اس کی قربانی کر لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۰۰ کا خلاصہ
یہ قربانی کی تقسیم کی حدیث ہے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ انہیں قربانی کے لیے صحابہ میں تقسیم کر دیں۔ انہوں نے یہ ذمہ داری ادا کی، پھر ایک سال کا بکری کا بچہ باقی رہ گیا۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے طور پر استعمال کرنے کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کی قربانی کر لو۔ اس روایت میں امانت، تقسیم، ذمہ داری اور اجازت لینے کا صاف سبق ہے۔ جب کوئی چیز تقسیم کے لیے دی جائے تو امین آدمی بچی ہوئی چیز کے بارے میں بھی صاحب اختیار سے رہنمائی لیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تقسیم کی ذمہ داری امانت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔
- بچی ہوئی چیز کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے بجائے اجازت لی گئی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ رضی اللہ عنہ کو اس بچے کی قربانی کی اجازت دی۔
- قربانی کے جانوروں کی تقسیم میں نظم اور ذمہ داری کا سبق ملتا ہے۔
