صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۹ - خیبر کی مزارعت

خیبر کی زمین کی حدیث: مزارعت اور پیداوار کی تقسیم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۹۹

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا ، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا " .

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دے دی تھی کہ وہ اس میں محنت کریں اور بوئیں جوتیں۔ پیداوار کا آدھا حصہ انہیں ملا کرے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۹۹ کا خلاصہ

یہ خیبر کی زمین اور مزارعت کی حدیث ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی کہ وہ اس میں کام کریں، جوتیں اور بوئیں۔ پیداوار کا آدھا حصہ ان کے لیے ہو گا۔ اس حدیث میں زمین، محنت اور پیداوار کی تقسیم کا ایک عملی معاملہ بیان ہوا ہے۔ زمین ایک طرف سے تھی، محنت دوسری طرف سے، اور نتیجہ پیداوار کی صورت میں آدھا آدھا طے کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زرعی معاملہ واضح شرط کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اصل سبق یہ ہے کہ کام، حصہ اور شرط پہلے سے صاف ہو تو معاملہ زیادہ منظم رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زرعی معاملے میں کام اور حصہ پہلے سے واضح کیا گیا۔
  • خیبر کی زمین پر محنت کرنے والوں کے لیے نصف پیداوار مقرر ہوئی۔
  • معاملات میں شرط صاف ہونے سے جھگڑے کم ہوتے ہیں۔
  • زمین اور محنت کے اشتراک کی عملی صورت اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں