صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۸ - خیبر کی زمین اور پیداوار کی تقسیم
خیبر کی زمین کی حدیث: مزارعت اور پیداوار کی تقسیم
صحیح بخاری : ۴۲۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۴۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا " .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر (کی زمین و باغات وہاں کے) یہودیوں کے پاس ہی رہنے دیئے تھے کہ وہ ان میں کام کریں اور بوئیں جوتیں اور انہیں ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ملے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کی زمین اور باغات کے بارے میں ایک واضح معاملہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کے پاس رہنے دی تاکہ وہ اس میں کام کریں، کھیتی کریں اور جو پیداوار نکلے اس کا آدھا حصہ انہیں ملے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین، محنت اور پیداوار کے معاملے میں طے شدہ شرط کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے والوں کو ان کی محنت کے بدلے پیداوار میں حصہ دیا گیا۔ مزارعت، خیبر کی زمین، پیداوار کی تقسیم اور آدھی پیداوار جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل موضوع سے جڑے ہیں۔ حدیث میں جتنی بات آئی ہے، وہ یہی ہے کہ زمین پر کام اور پیداوار کی تقسیم ایک طے شدہ معاملے کے تحت ہوئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کام اور حصہ پہلے سے واضح ہو تو معاملہ صاف رہتا ہے۔
- زمین کے کام میں محنت کرنے والوں کا حصہ طے کیا جا سکتا ہے۔
- معاہدے میں پیداوار کی تقسیم واضح رکھنا بہتر ہے۔
