صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۷ - خیبر کے انتظام میں نبوی رہنمائی

عامل کی ذمہ داری: خیبر کے انتظام سے ملنے والا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۴۷

وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَاهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا ،

ابوسعید اور ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے خاندان بنی عدی کے بھائی کو خیبر بھیجا اور انہیں وہاں کا عامل مقرر کیا اور عبدالمجید سے روایت ہے کہ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نقل کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۷ کا خلاصہ

یہ روایت بھی خیبر کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک شخص کو عامل مقرر کرنے کا ذکر کرتی ہے۔ الفاظ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے خاندان بنی عدی کے ایک بھائی کو خیبر بھیجا اور انہیں وہاں کا ذمہ دار بنایا۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، مگر جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ کام کو کسی ذمہ دار کے سپرد کیا گیا۔ اسلامی زندگی میں ذمہ داری صرف منصب نہیں ہوتی، بلکہ امانت ہوتی ہے۔ جو شخص کسی جگہ کا عامل ہو، اسے وہاں کے معاملات میں دیانت، انصاف اور احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس روایت کو خیبر کا عامل، اسلامی ذمہ داری، امارت کی حدیث اور انتظامی امانت جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ذمہ داری ملنا اعتماد کی بات ہے، اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
  • انتظامی کاموں میں اہل اور مقرر شخص کے ذریعے نظم قائم ہوتا ہے۔
  • حدیث ہمیں امانت کے ساتھ ذمہ داری ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں