صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۶ - خیبر میں عامل مقرر کرنے کا واقعہ
خیبر کا عامل مقرر کرنے کی حدیث اور ذمہ داری کا سبق
صحیح بخاری : ۴۲۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۴۶
وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَاهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ ، فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا ،
ابوسعید اور ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے خاندان بنی عدی کے بھائی کو خیبر بھیجا اور انہیں وہاں کا عامل مقرر کیا اور عبدالمجید سے روایت ہے کہ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نقل کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۶ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے خاندان بنی عدی کے ایک شخص کو خیبر بھیجا اور وہاں کا عامل مقرر فرمایا۔ اس سے ایک سادہ مگر اہم بات سامنے آتی ہے کہ اجتماعی کاموں کے لیے ذمہ دار شخص مقرر کیا جاتا ہے تاکہ معاملات منظم رہیں۔ خیبر کا معاملہ زمین، پیداوار اور انتظام سے جڑا ہوا تھا، اس لیے وہاں ایک عامل کی ضرورت تھی۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ ذمہ داری کسی کو دی جائے تو وہ امانت سمجھ کر کام کرے۔ امارت، عامل، خیبر کا انتظام اور اسلامی نظم جیسے موضوعات اس روایت سے جڑتے ہیں۔ اس میں اضافی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے بات اسی حد تک رکھی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ذمہ دار بنا کر بھیجا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اجتماعی کام کے لیے ذمہ دار شخص مقرر کرنا درست انتظام کا حصہ ہے۔
- عامل یا امیر کو اپنی ذمہ داری امانت سمجھ کر نبھانی چاہیے۔
- دینی اور معاشرتی معاملات میں نظم و ترتیب کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
