صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۵ - کھجور کی بیع اور سود سے بچنے کا طریقہ
کھجور کی بیع کی حدیث: اچھی خرید و فروخت کا نبوی طریقہ
صحیح بخاری : ۴۲۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۴۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا " ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " ،
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالمجید بن سہیل نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ) کو خیبر کا عامل مقرر کیا۔ وہ وہاں سے عمدہ قسم کی کھجوریں لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور (اس سے خراب) دو یا تین صاع کھجور کے بدلے میں ان سے لے لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح نہ کیا کرو ‘ بلکہ (اگر اچھی کھجور لانی ہو تو) ردی کھجور پہلے درہم کے بدلے بیچ ڈالا کرو ‘ پھر ان دراہم سے اچھی کھجور خرید لیا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرید و فروخت کا ایک بہت صاف اصول بتایا گیا ہے۔ خیبر کے عامل عمدہ کھجوریں لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ جواب ملا کہ نہیں، ہم ایک صاع اچھی کھجور دو یا تین صاع عام کھجور کے بدلے لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ اگر اچھی کھجور لینی ہو تو پہلے عام کھجور کو درہم کے بدلے بیچو، پھر انہی درہم سے اچھی کھجور خریدو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی جنس کے تبادلے میں کمی بیشی کا معاملہ بہت احتیاط چاہتا ہے۔ بیع، سود، کھجور کی خرید و فروخت اور حلال تجارت میں صاف طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی جنس کی چیز کا تبادلہ کرتے وقت کمی بیشی سے بچنا چاہیے۔
- اگر اچھی چیز خریدنی ہو تو پہلے اپنی چیز بیچ کر رقم حاصل کی جائے۔
- تجارت میں سیدھا اور واضح طریقہ اختیار کرنا بہتر ہے۔
