صحیح بخاری حدیث ۵۵۴۵ - نماز عید کے بعد قربانی
قربانی کب کرنی چاہیے؟ نماز عید کے بعد قربانی کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۵۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۵۴۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ " ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً ، فَقَالَ : " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " ، قَالَ مُطَرِّفٌ : ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ تَمَّ نُسُكُهُ ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ " .
براء بن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۵۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عید الاضحی کے دن فرمایا کہ ہم سب سے پہلے نماز پڑھیں گے، پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ جو ایسا کرے گا وہ سنت کے مطابق کرے گا۔ جو نماز سے پہلے ذبح کرے گا، وہ صرف اپنے گھر والوں کے لیے گوشت ہو گا، قربانی نہیں۔ ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے پہلے ذبح کر لیا تھا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں خاص اجازت دی کہ ایک سال سے کم عمر کا بکرا ذبح کر لیں، مگر فرمایا کہ تمہارے بعد کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع قربانی کا وقت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید الاضحی کے دن پہلے نماز، پھر قربانی کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- نماز عید سے پہلے ذبح کیا گیا جانور قربانی نہیں بلکہ گھر کا گوشت کہا گیا۔
- ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے خاص اجازت دی گئی، عام حکم نہیں بنایا گیا۔
