صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۹ - سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم

سورج گرہن کی حدیث: غلام آزاد کرنے کا نبوی حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۱۹

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ " . تَابَعَهُ عَلِيٌّ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ هِشَامٍ .

اسماء بنت ابی بکر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو علی بن مدینی نے بھی عبدالعزیز دراوردی سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے ہشام سے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔ اس کا اصل موضوع سورج گرہن کے موقع پر نیکی کا کام کرنا ہے، خاص طور پر غلام آزاد کرنا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر بات صاف ہے کہ جب سورج گرہن پیش آیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے اس وقت عتق، یعنی غلام آزادی، کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر انسان کو غفلت میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ نیکی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ یہاں حدیث میں نماز، دعا یا کسی اور عمل کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے اس روایت کی بنیاد پر بات صرف اسی حکم تک محدود رکھی گئی ہے کہ سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔ یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاص حالات میں بھی خیر کے کام کو ترجیح دینی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورج گرہن کے وقت نیکی کے کام کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
  • اس روایت میں خاص طور پر غلام آزاد کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • مشکل یا غیر معمولی وقت میں غفلت کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
  • حدیث کا پیغام مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے جو متن میں واضح طور پر آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں