صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۸ - سب سے افضل عمل اور دوسروں کو شر سے بچانا

سب سے افضل عمل: ایمان، مدد اور لوگوں کو شر سے بچانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۱۸

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، قُلْتُ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَغْلَاهَا ثَمَنًا ، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تُعِينُ ضَايِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " .

ابوذر غفاری روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے پوچھا اور کس طرح کا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں جو بہت زیادہ پسندیدہ ہو۔میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے یہ نہ ہو سکا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ پھر کسی مسلمان کاریگر کی مدد کر یا کسی بے ہنر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ بھی نہ کر سکا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نیک عمل ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر غلام آزاد کرنے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ غلام آزاد کرنا افضل ہے جو زیادہ قیمتی ہو اور اپنے مالک کو زیادہ محبوب ہو۔ جب ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کاریگر یا بے ہنر آدمی کی مدد کا راستہ بتایا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنا بھی ایک صدقہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی صرف بڑے کاموں تک محدود نہیں، بلکہ کسی کو نقصان نہ پہنچانا بھی انسان کے اپنے حق میں صدقہ بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ پر ایمان لانا اس حدیث میں افضل عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔
  • جہاں ممکن ہو، کسی ضرورت مند یا کمزور آدمی کی عملی مدد کرنی چاہیے۔
  • اگر بڑا نیک کام نہ ہو سکے تو کم از کم لوگوں کو اپنے شر سے بچانا چاہیے۔
  • کسی کو نقصان نہ پہنچانا بھی اپنے لیے صدقہ بن سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں