صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۳ - حصہ آزاد ہو تو باقی آزادی کا حکم
مشترک مملوک کی آزادی اور مالی طاقت کا اصول
صحیح بخاری : ۲۵۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۲۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَأُعْتِقَ مِنْهُ مَا أَعْتَقَ " . حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ اخْتَصَرَهُ .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی مشترک غلام کے اپنے حصے کو آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی پوری قیمت ادا کرنے کے لیے مال بھی ہے تو پورا غلام اسے آزاد کرانا لازم ہے لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے پورے غلام کی صحیح قیمت ادا کی جا سکے۔ تو پھر غلام کا جو حصہ آزاد ہو گیا وہی آزاد ہوا۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر نے بیان کیا اور ان سے عبیداللہ نے اختصار کے ساتھ۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشترک غلام کے ایک حصے کو آزاد کرنے کا حکم بیان فرمایا۔ اگر کسی شخص نے اپنے حصے کو آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے کہ پورے غلام کی قیمت ادا کر سکے، تو اس پر لازم ہے کہ غلام کو مکمل آزاد کرائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزادی کا عمل صرف اپنے حصے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ باقی شریکوں کا حق ادا کر کے غلام کی پوری آزادی مکمل کی جائے گی۔ اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو پھر جتنا حصہ اس نے آزاد کیا ہے وہی آزاد ہو گا۔ اس حدیث میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت کے ساتھ ساتھ مالی استطاعت، صحیح قیمت، اور عدل کی بات بھی موجود ہے۔ نیکی کرتے وقت حق داروں کا حق بھی باقی رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استطاعت ہو تو مشترک غلام کی آزادی مکمل کی جائے۔
- باقی شریکوں کے حصے کی قیمت ادا کرنا عدل کا حصہ ہے۔
- مال نہ ہو تو آزاد شدہ حصہ ہی آزاد شمار ہو گا۔
