صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۲ - ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے
ولاء لمن أعتق: آزاد کرنے والے کا حق
صحیح بخاری : ۶۷۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۵۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۲ کا خلاصہ
یہ حدیث ولاء کے مسئلے کو نہایت مختصر اور واضح الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ ولاء ایک خاص شرعی تعلق ہے جو غلام یا کنیز کو آزاد کرنے کے بعد آزاد کرنے والے سے متعلق ہوتا ہے۔ اس حدیث میں کوئی طویل واقعہ بیان نہیں ہوا، اس لیے اصل پیغام یہی ہے کہ ولاء کسی شرط، دعوے یا الگ معاہدے سے دوسرے کے لیے نہیں بنتی۔ جس نے آزادی دی، یہی تعلق اس کے ساتھ ہے۔ اس لیے ولاء کی حدیث، غلام آزاد کرنے کا حکم، اور ولاء کا حق تلاش کرنے والے کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ احسان اور آزادی کا تعلق اسی شخص سے جوڑا گیا جس نے واقعی آزاد کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔
- ولاء کو شرط لگا کر کسی اور کے لیے ثابت نہیں کیا گیا۔
- آزاد کرنے والے کے عمل کو اس حق کی بنیاد بنایا گیا۔
