صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۶ - ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے کی ممانعت

ولاء کی خرید و فروخت سے ممانعت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۵۶

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ ، وَعَنْ هِبَتِهِ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے تعلق کو بیچنے، اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ولاء کے تعلق کے بارے میں ایک صاف حکم آیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ولاء کوئی عام مال یا چیز نہیں جسے بازار میں بیچا جائے یا تحفے کے طور پر کسی اور کو دے دیا جائے۔ ولاء کا تعلق آزاد کرنے کے عمل سے بنتا ہے، اس لیے اسے خرید و فروخت یا ہبہ کے ذریعے منتقل نہیں کیا گیا۔ جو لوگ ولاء کی حدیث، بیع ولاء، ہبہ ولاء یا آزاد کرنے والے کے حق کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت سیدھا اصول دیتی ہے۔ اس میں اصل پیغام یہ ہے کہ شرعی تعلقات کو عام لین دین کی چیز نہیں بنایا جاتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کو بیچنے سے منع کیا گیا۔
  • ولاء کو ہبہ کرنے سے بھی منع کیا گیا۔
  • ولاء عام مال کی طرح منتقل ہونے والی چیز نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں