صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۳ - سائبہ کا جاہلی طریقہ
سائبہ کی حدیث: اسلام اور جاہلیت کا فرق
صحیح بخاری : ۶۷۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۵۳
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْإِسْلَامِ لَا يُسَيِّبُونَ ، وَإِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُسَيِّبُونَ " .
عبداللہ روایت:
عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۳ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا ہے کہ اہل اسلام سائبہ نہیں بناتے، اور اہل جاہلیت سائبہ بناتے تھے۔ حدیث کے متن میں سائبہ کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا درست ہے کہ یہ دور جاہلیت کا ایک طریقہ تھا جسے مسلمانوں کا عمل نہیں بتایا گیا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع جاہلی رسم اور اسلامی طریقے کا فرق ہے۔ جب کوئی شخص سائبہ کی حدیث، جاہلیت کی رسم، یا اسلام میں سائبہ کا حکم تلاش کرتا ہے تو یہ روایت بنیادی جواب دیتی ہے کہ مسلمانوں کا طریقہ اس سے جدا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر پرانی رسم کو دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ مسلمان اپنے عمل کو اسلامی حکم کے مطابق رکھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سائبہ بنانا اہل اسلام کا طریقہ نہیں بتایا گیا۔
- یہ عمل دور جاہلیت کے مشرکین کی طرف منسوب کیا گیا۔
- مسلمان اپنے عمل میں جاہلی طریقوں سے الگ رہتے ہیں۔
