صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۷ - تعلیم، آزادی اور حقوق کا اجر
تعلیم، آزادی اور حق ادائیگی: دو اجر کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۴۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ فَلَهُ أَجْرَانِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی کے پاس بھی کوئی باندی ہو اور وہ اسے پورے حسن و خوبی کے ساتھ ادب سکھائے، پھر آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے اور جو غلام اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کرے اور اپنے آقاؤں کے بھی تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حق ادائیگی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صورتیں بیان فرمائیں۔ پہلی یہ کہ جس کے پاس باندی ہو، وہ اسے اچھے طریقے سے ادب سکھائے، پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کرے، تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔ دوسری یہ کہ کوئی غلام اللہ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقاؤں کا حق بھی ادا کرے، تو اسے بھی دو اجر ملتے ہیں۔ اس حدیث میں تعلیم، تربیت، آزادی، نکاح، عبادت اور حق ادا کرنے کے مضامین ایک ساتھ آئے ہیں۔ لیکن ہر بات اسی خاص صورت کے اندر ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ اس لیے وضاحت کرتے وقت الفاظ کو حدیث کے دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- باندی کو اچھا ادب سکھانا اس روایت میں پسندیدہ عمل کے طور پر آیا ہے۔
- آزادی کے بعد نکاح کرنے پر دو اجر کا ذکر ہے۔
- اللہ کے حق اور آقاؤں کے حق دونوں کی ادائیگی بیان ہوئی ہے۔
