صحیح بخاری حدیث ۲۵۶۰ - ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے
ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے: بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۶۰
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " إِنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أَوَاقٍ نُجِّمَتْ عَلَيْهَا فِي خَمْسِ سِنِينَ ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : وَنَفِسَتْ فِيهَا ، أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ فَأُعْتِقَكِ فَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا ، فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : لَا ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَنَا الْوَلَاءُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ " .
عائشہ روایت:
بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اپنے مکاتبت کے معاملہ میں ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا کو پانچ اوقیہ چاندی پانچ سال کے اندر پانچ قسطوں میں ادا کرنی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، انہیں خود بریرہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کرانے میں دلچسپی ہو گئی تھی،(عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا) کہ یہ بتاؤ اگر میں انہیں ایک ہی مرتبہ (چاندی کے یہ پانچ اوقیہ) ادا کر دوں تو کیا تمہارے مالک تمہیں میرے ہاتھ بیچ دیں گے؟ پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور تمہاری ولاء میرے ساتھ قائم ہو جائے گی۔بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے ہاں گئیں اور ان کے آگے یہ صورت رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ صورت اس وقت منظور کر سکتے ہیں کہ رشتہ ولاء ہمارے ساتھ رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خرید کر بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دے، ولاء تو اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا کہ کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو (معاملات میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی جڑ (دلیل) بنیاد کتاب اللہ میں نہیں ہے۔ پس جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی کوئی اصل (دلیل، بنیاد) کتاب اللہ میں نہ ہو تو وہ شرط غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حق اور زیادہ مضبوط ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ولاء اور شرائط ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں تاکہ مکاتبت کے معاملے میں مدد لیں۔ ان پر پانچ اوقیہ چاندی پانچ سال کی قسطوں میں تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پیشکش کی کہ وہ رقم ادا کر کے انہیں خریدیں گی، آزاد کریں گی، اور ولاء ان کے لیے ہو گا۔ بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے شرط رکھی کہ ولاء ان کے لیے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی شرطوں کو باطل بتایا جن کی بنیاد کتاب اللہ میں نہ ہو۔ اس حدیث میں مکاتبت، آزادی، ولاء اور غلط شرط سب واضح طور پر آئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء کا حق آزاد کرنے والے کے لیے بیان ہوا ہے۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں مکاتبت اور آزادی کا ذکر ہے۔
- ایسی شرط جس کی بنیاد کتاب اللہ میں نہ ہو، باطل قرار دی گئی۔
- معاملات میں شرعی اصول کو شرطوں پر مقدم رکھا گیا ہے۔
