صحیح بخاری حدیث ۲۵۷۱ - دائیں طرف سے شروع کرنے کی سنت

دائیں طرف سے شروع کرنے کی حدیث: پینے کا ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۷۱

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو طُوَالَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا هَذِهِ ، فَاسْتَسْقَى ، فَحَلَبْنَا لَهُ شَاةً لَنَا ، ثُمَّ شُبْتُهُ مِنْ مَاءِ بِئْرِنَا هَذِهِ ، فَأَعْطَيْتُهُ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ ، وَعُمَرُ تُجَاهَهُ ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ عُمَرُ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ ، فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ فَضْلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ ، أَلَا فَيَمِّنُوا " . قَالَ أَنَسٌ : فَهِيَ سُنَّةٌ ، فَهِيَ سُنَّةٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .

انس روایت:

ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اسی گھر میں تشریف لائے اور پانی طلب فرمایا۔ ہمارے پاس ایک بکری تھی، اسے ہم نے دوہا۔ پھر میں نے اسی کنویں کا پانی ملا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (لسی بنا کر) پیش کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ سامنے تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پی کر فارغ ہوئے تو (پیالے میں کچھ دودھ بچ گیا تھا اس لیے) عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیہاتی کو عطا فرمایا۔ (کیونکہ وہ دائیں طرف تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دائیں طرف بیٹھنے والے، دائیں طرف بیٹھنے والے ہی حق رکھتے ہیں۔ پس خبردار دائیں طرف ہی سے شروع کیا کرو۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے، تین مرتبہ (آپ نے اس بات کو دہرایا)۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۷۱ کا خلاصہ

یہ حدیث دائیں طرف سے شروع کرنے کی سنت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پانی طلب فرمایا، گھر والوں نے بکری کا دودھ دوہا اور کنویں کا پانی ملا کر پیش کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ، سامنے عمر رضی اللہ عنہ اور دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا تھا۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم نے پیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا، مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بچا ہوا مشروب دائیں طرف بیٹھے دیہاتی کو دیا۔ پھر فرمایا کہ دائیں طرف والے، دائیں طرف والے ہی حق رکھتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے اسے سنت قرار دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پینے پلانے میں دائیں طرف والے کا حق پہلے ہے۔
  • فضیلت والے شخص کی موجودگی کے باوجود ترتیب کا ادب رکھا گیا۔
  • دائیں طرف سے شروع کرنا سنت ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں