صحیح بخاری حدیث ۲۵۷۴ - نبی صلى الله عليه وسلم کو خوش کرنے کے لیے ہدیہ
نبی صلى الله عليه وسلم کو ہدیہ دینے کی حدیث: خوشی حاصل کرنے کا جذبہ
صحیح بخاری : ۲۵۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۷۴
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِهَا ، أَوْ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عائشہ روایت:
لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اپنے ہدایا سے، یا اس خاص دن کے انتظار سے (راوی کو شک ہے) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ لوگ اس کے ذریعے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ہدیہ دینے کی حدیث کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خوشی کا خیال رکھتے تھے اور مناسب وقت دیکھ کر تحفہ بھیجتے تھے۔ یہاں اصل بات ہدیہ، محبت اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رضا کی طلب ہے۔ حدیث میں صرف اتنا بیان ہوا ہے کہ لوگ خاص دن کا انتظار کرتے تھے، اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی نیا حکم یا تفصیل اپنی طرف سے شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کی خوشی کا خیال رکھتے تھے۔
- ہدیہ محبت کے اظہار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
- کسی نیک کام میں مناسب وقت کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔
