صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۱ - قرض کی ادائیگی اور برکت کی دعا

قرض کی ادائیگی کی حدیث: برکت والی دعا اور امانت داری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۰۱

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا ، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي ، فَأَبَوْا ، فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ ، وَلَكِنْ قَالَ : سَأَغْدُو عَلَيْكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ ، فَطَافَ فِي النَّخْلِ ، وَدَعَا فِي ثَمَرِهِ بِالْبَرَكَةِ ، فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ وَبَقِيَ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : اسْمَعْ وَهُوَ جَالِسٌ يَا عُمَرُ ، فَقَالَ : أَلَّا يَكُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

احد کی لڑائی میں ان کے باپ شہید ہو گئے (اور قرض چھوڑ گئے) قرض خواہوں نے تقاضے میں بڑی شدت کی، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں (جو بھی ہوں) اور میرے والد کو (جو باقی رہ جائے وہ قرض) معاف کر دیں۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا باغ انہیں نہیں دیا اور نہ ان کے لیے پھل تڑوائے۔ بلکہ فرمایا کہ کل صبح میں تمہارے یہاں آؤں گا۔صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے درختوں میں ٹہلتے رہے اور برکت کی دعا فرماتے رہے پھر میں نے پھل توڑ کر قرض خواہوں کے سارے قرض ادا کر دئیے اور میرے پاس کھجور بچ بھی گئی۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، عمر! سن رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، ہمیں تو پہلے سے معلوم ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قسم اللہ کی! اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قرض کی ادائیگی، حق داروں کا حق اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی برکت والی دعا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کے والد احد میں شہید ہوئے اور قرض چھوڑ گئے۔ قرض خواہ سختی سے مطالبہ کر رہے تھے۔ جابر رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے ان سے نرمی کی درخواست کی، مگر وہ نہ مانے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم باغ میں تشریف لائے، کھجوروں میں چلے اور برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد کھجوریں اتنی ہوئیں کہ قرض بھی ادا ہو گیا اور کچھ بچ بھی گیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ قرض کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، حق دار کا حق ادا کرنا چاہیے، اور مشکل وقت میں اللہ سے برکت مانگنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرض کی ادائیگی کو سنجیدہ معاملہ سمجھنا چاہیے۔
  • حق دار کے حق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • مشکل مالی حالات میں اللہ سے برکت کی دعا کرنی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا سے جابر رضی اللہ عنہ کی مشکل آسان ہوئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں