صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۰ - رمضان کا کفارہ اور آسانی
رمضان کے کفارے کی حدیث اور نبی صلى الله عليه وسلم کی آسانی
صحیح بخاری : ۲۶۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۰۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : وَقَعْتُ بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : تَجِدُ رَقَبَةً ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِعَرَقٍ ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا بات ہوئی؟“ عرض کیا کہ رمضان میں میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟“ کہا کہ نہیں۔ پھر دریافت فرمایا ”کیا دو مہینے پے در پے روزے رکھ سکتے ہو؟“ کہا کہ نہیں۔ پھر دریافت فرمایا ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو؟“ اس پر بھی جواب تھا کہ نہیں۔بیان کیا کہ اتنے میں ایک انصاری عرق لائے۔ (عرق کھجور کے پتوں کا بنا ہوا ایک ٹوکرا ہوتا تھا جس میں کھجور رکھی جاتی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے“ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کر دوں؟ اور اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ سارے مدینے میں ہم سے زیادہ محتاج اور کوئی گھرانہ نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر جا، اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع رمضان کا کفارہ اور نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت ہے۔ ایک دیہاتی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں ہلاک ہو گیا، کیونکہ رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر بیٹھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے ترتیب سے پوچھا کہ کیا غلام آزاد کر سکتے ہو؟ کیا دو ماہ لگاتار روزے رکھ سکتے ہو؟ کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ہر بار اس نے کہا کہ نہیں۔ پھر کھجوروں کا ٹوکرا آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے صدقہ کر دو۔ اس شخص نے بتایا کہ مدینے میں ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھر نہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔ حدیث میں خطا کا اقرار، کفارے کی ترتیب، اور حاجت مند کے لیے آسانی کا پہلو واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی ہو جائے تو چھپانے کے بجائے دینی رہنمائی لینی چاہیے۔
- کفارے میں استطاعت کا لحاظ کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ضرورت مند شخص کے حال کو سمجھا۔
- اہل خانہ کی محتاجی کو دیکھتے ہوئے کھانا انہیں دینے کی اجازت دی گئی۔
