صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۹ - دلجوئی اور ہدیہ

دلجوئی اور تحفہ دینے کی حدیث: مخرمہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۹۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا ، فَقَالَ : خَبَأْنَا هَذَا لَكَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : رَضِيَ مَخْرَمَةُ " .

مسور بن مخرمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی۔ انہوں نے (مجھ سے) کہا، بیٹے چلو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں۔ میں ان کے ساتھ چلا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر کھڑا ہوا ہوں، چنانچہ میں اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی، لو اب یہ تمہاری ہے۔ مسور نے بیان کیا کہ (میرے والد) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قباء کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مخرمہ! خوش ہو یا نہیں؟“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع دلجوئی، ہدیہ اور حسن سلوک ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چند قبائیں تقسیم فرمائیں، مگر مخرمہ رضی اللہ عنہ کو ان میں سے کچھ نہ ملا۔ وہ اپنے بیٹے مسور رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے قباؤں میں سے ایک قباء پہن رکھی تھی اور فرمایا کہ ہم نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی، اب یہ تمہاری ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو یا نہیں۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کا نرم انداز، کسی کے دل کا خیال رکھنا، اور تحفے کے ذریعے دلجوئی کرنا صاف نظر آتا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کبھی چھوٹا تحفہ بھی دل کو خوش کر دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کا دل رکھنے کے لیے مناسب تحفہ دیا جا سکتا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے مخرمہ رضی اللہ عنہ کی دلجوئی فرمائی۔
  • تقسیم کے بعد بھی کسی کی حاجت یا امید کا خیال رکھا گیا۔
  • خوش اخلاقی تعلقات کو بہتر بناتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں