صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۸ - وعدہ پورا کرنا
وعدہ پورا کرنے کی حدیث: جابر رضی اللہ عنہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۲۵۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۹۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَقْدَمْ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ مُنَادِيًا ، فَنَادَى : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَنِي فَحَثَى لِي ثَلَاثًا " .
جابر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا، اگر بحرین کا مال (جزیہ کا) آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ مال دوں گا۔ لیکن بحرین سے مال آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک منادی سے یہ اعلان کرنے کے لیے کہا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا کوئی قرض ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں گیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ تو انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دئیے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع وعدہ پورا کرنا اور حق ادا کرنا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے تو میں تمہیں تین لپ مال دوں گا۔ وہ مال نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات سے پہلے نہ آیا۔ بعد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کروایا کہ جس سے نبی صلى الله عليه وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ صلى الله عليه وسلم پر کوئی قرض ہو، وہ ہمارے پاس آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا واقعہ بتایا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں تین لپ بھر کر دیے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ وعدہ صرف بات نہیں، بلکہ حق ہے جسے ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے حکمران نے بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے وعدے کو اہم سمجھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وعدہ پورا کرنا قابل اعتماد کردار کی نشانی ہے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے وعدوں کو اہمیت دی۔
- قرض اور وعدے کے معاملے میں اعلان کر کے حق داروں کو بلایا گیا۔
- جابر رضی اللہ عنہ کو بیان کردہ وعدے کے مطابق دیا گیا۔
