صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۳ - ادائیگی میں اچھا برتاؤ

لین دین میں اچھا سلوک: قرض یا قیمت ادا کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۰۳

حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي " .

جابر روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (سفر سے لوٹ کر) مسجد میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے اونٹ کی قیمت) ادا کی اور کچھ زیادہ بھی دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۰۳ کا خلاصہ

اس مختصر حدیث میں لین دین کے بعد اچھے برتاؤ کا واضح نمونہ ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے اونٹ کی قیمت ادا کی اور کچھ زیادہ بھی دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ معاملہ صرف قیمت ادا کرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ ادائیگی میں خوش دلی اور احسان بھی شامل ہوا۔ یہ حدیث خرید و فروخت، قرض کی ادائیگی، اور وعدہ پورا کرنے کے بارے میں آسان سبق دیتی ہے۔ جب کسی سے معاملہ ہو تو حق ادا کیا جائے، اور اگر موقع ہو تو نرمی اور اچھائی بھی دکھائی جائے۔ یہی حسن معاملہ دلوں کو قریب کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لین دین کے بعد حق ادا کرنا ضروری ہے۔
  • ادائیگی میں خوش دلی اچھے اخلاق کی علامت ہے۔
  • مسجد میں بھی جائز معاملہ طے کیا جا سکتا ہے جب آداب ملحوظ رہیں۔
  • زیادہ دینا احسان ہو سکتا ہے، جب وہ خوشی سے دیا جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں