صحیح بخاری حدیث ۲۶۴۰ - رضاعت کی گواہی اور نکاح
رضاعت کی حدیث: دودھ پلانے کی گواہی کے بعد نکاح کا حکم
صحیح بخاری : ۲۶۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۴۰
حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ ، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ : مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي ، فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ يَسْأَلُهُمْ ، فَقَالُوا : مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا ، فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَفَارَقَهَا وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ " .
عقبہ بن حارث روایت:
انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ ایک خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ عقبہ کو بھی میں نے دودھ پلایا ہے اور اسے بھی جس سے اس نے شادی کی ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ آپ نے مجھے دودھ پلایا ہے اور آپ نے مجھے پہلے اس سلسلے میں کچھ بتایا بھی نہیں تھا۔ پھر انہوں نے آل ابواہاب کے یہاں آدمی بھیجا کہ ان سے اس کے متعلق پوچھے۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے دودھ پلایا ہے۔عقبہ رضی اللہ عنہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ کہا جا چکا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں جدائی کرا دی اور اس کا نکاح دوسرے شخص سے کرا دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا۔ پھر ایک خاتون آئیں اور کہا کہ میں نے عقبہ کو بھی دودھ پلایا ہے اور اس لڑکی کو بھی جس سے نکاح ہوا ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں، اور آپ نے پہلے بتایا بھی نہیں تھا۔ انہوں نے لڑکی کے گھر والوں سے بھی پوچھا، مگر انہیں بھی علم نہ تھا۔ پھر عقبہ رضی اللہ عنہ مدینہ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ یہ بات کہی جا چکی۔ پھر دونوں میں جدائی کرا دی گئی۔ رضاعت کی حدیث نکاح میں احتیاط کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعت کی خبر نکاح کے معاملے میں سنجیدہ سمجھی گئی۔
- مسئلہ واضح نہ ہو تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
- نکاح کے معاملے میں احتیاط اور شرعی رہنمائی کو ترجیح دی گئی۔
