صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۷ - تہمت کے وقت خیر کی گواہی
تہمت کی حدیث: خیر کی گواہی اور زبان کی احتیاط
صحیح بخاری : ۲۶۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۳۷
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا ، وَأُسَامَةَ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْتَأْمِرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ ، فَأَمَّا أُسَامَةُ ، فَقَالَ : أَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، وَقَالَتْ بَرِيرَةُ : إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا أَغْمِصُهُ أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعْذِرُنَا فِي رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا ، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا " .
عائشہ روایت:
جب ان پر تہمت لگانے والوں نے تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو اپنی بیوی (عائشہ رضی اللہ عنہا) کو اپنے سے جدا کرنے کے متعلق مشورہ کرنے کے لیے بلایا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اب تک (اس سلسلے میں) وحی نہیں آئی تھی۔اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو یہ کہا کہ آپ کی زوجہ مطہرہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) میں ہم سوائے خیر کے اور کچھ نہیں جانتے۔ اور بریرہ رضی اللہ عنہا (ان کی خادمہ) نے کہا کہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جانتی جس سے ان پر عیب لگایا جا سکے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ نوعمر لڑکی ہیں کہ آٹا گوندھتی اور پھر جا کے سو رہتی ہے اور بکری آ کر اسے کھا لیتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تہمت کے جھوٹ ثابت ہونے کے بعد) فرمایا کہ ایسے شخص کی طرف سے کون عذر خواہی کرے گا جو میری بیوی کے بارے میں بھی مجھے اذیت پہنچاتا ہے۔ قسم اللہ کی! میں نے اپنے گھر میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا اور لوگ ایسے شخص کا نام لیتے ہیں جس کے متعلق بھی مجھے خیر کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۷ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کے واقعے کا ایک حصہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابھی وحی نہیں آئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما سے مشورہ کیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم آپ کے گھر والوں کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے بھی کوئی عیب والی بات نہ جاننے کی گواہی دی، صرف یہ بتایا کہ وہ کم عمر ہیں اور آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں، پھر بکری آ کر کھا لیتی ہے۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے گھر میں خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ تہمت کی حدیث ہمیں بات کرتے وقت احتیاط اور خیر کی گواہی کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہمت کے معاملے میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- جس کے بارے میں خیر معلوم ہو، اس کے لیے خیر ہی بیان کرنی چاہیے۔
- مشکل گھریلو معاملے میں مشورہ لیا جا سکتا ہے۔
