صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۸ - حقیقت جاننے کی حکمت

تحقیق کی حدیث: بات سمجھنے سے پہلے جلدی نہ کریں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۳۸

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ سَالِمٌ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ : أَيْ صَافِ هَذَا مُحَمَّدٌ ، فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر کھجور کے اس باغ کی طرف تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کی آڑ میں چھپ کر چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھنے نہ پائے اور اس سے پہلے آپ اس کی باتیں سن سکیں۔ ابن صیاد ایک روئیں دار چادر میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کی آڑ لیے چلے آ رہے ہیں تو وہ کہنے لگی اے صاف! یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آ رہے ہیں۔ ابن صیاد ہوشیار ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اسے اپنے حال پر رہنے دیتی تو بات ظاہر ہو جاتی۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس باغ کی طرف گئے جہاں ابن صیاد تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کی آڑ میں چل رہے تھے تاکہ ابن صیاد آپ کو دیکھنے سے پہلے اس کی بات سن لی جائے۔ ابن صیاد ایک چادر میں لیٹا کچھ گنگنا رہا تھا۔ اس کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اسے خبردار کر دیا، تو ابن صیاد رک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو بات ظاہر ہو جاتی۔ اس تحقیق کی حدیث میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاملے کی حقیقت سمجھنے کے لیے سنجیدگی اور حکمت سے کام لیا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حقیقت جاننے کے لیے حکمت سے کام لینا چاہیے۔
  • کسی معاملے میں جلدی مداخلت کرنے سے بات واضح ہونے سے رہ سکتی ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے معاملہ سمجھنے کے لیے براہ راست مشاہدہ کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں