صحیح بخاری حدیث ۲۶۴۹ - غیر شادی شدہ زانی کی سزا

غیر شادی شدہ زانی کی سزا: حد زنا کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۴۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى ، وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ ، وَتَغْرِيبِ عَامٍ " .

زید بن خالد روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے جو شادی شدہ نہ ہوں اور زنا کریں۔ یہ حکم دیا تھا کہ انہیں سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں، جو شادی شدہ نہ ہو اور زنا کرے، حکم دیا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے۔ یہ حدیث حد زنا، غیر شادی شدہ زانی، اور شرعی سزا کے موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ متن میں صرف اسی خاص صورت کا ذکر ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رکھی جانی چاہیے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ ایسے احکام عدالت، ثبوت اور شرعی نظام سے متعلق ہوتے ہیں، عام افراد کے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔ حدیث کا بیان مختصر ہے، مگر اس کا حکم صاف الفاظ میں آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں غیر شادی شدہ زنا کرنے والے کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • متن میں سو کوڑوں اور ایک سال جلاوطنی کا ذکر ہے۔
  • شرعی حدود کا تعلق منظم عدالتی فیصلے سے ہے۔
  • گناہ کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں