صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۳ - کبیرہ گناہ اور جھوٹی گواہی
کبیرہ گناہوں کی حدیث: جھوٹی گواہی سے بچیں
صحیح بخاری : ۲۶۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۵۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ وَهْبَ بْنَ جَرِيرٍ ، وَعَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالَ : " الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ ". تَابَعَهُ غُنْدَرٌ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ شُعْبَةَ .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کی جان لینا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ اس روایت کی متابعت غندر، ابوعامر، بہز اور عبدالصمد نے شعبہ سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں چار باتیں بیان فرمائیں: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کی جان لینا، اور جھوٹی گواہی دینا۔ اس حدیث کا موضوع کبیرہ گناہ اور شہادت زور ہے۔ اس میں جھوٹی گواہی کو ایسے گناہوں کے ساتھ ذکر کیا گیا جن کا نقصان بہت بڑا ہے۔ عام زندگی میں جھوٹی گواہی کسی شخص کا حق ضائع کر سکتی ہے، کسی بے گناہ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اور انصاف کو بگاڑ سکتی ہے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ زبان کی سچائی دین کا اہم حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک کو کبیرہ گناہوں میں سب سے پہلے ذکر کیا گیا۔
- والدین کی نافرمانی سے سختی کے ساتھ بچنا چاہیے۔
- کسی کی جان لینا بہت بڑا گناہ ہے۔
- جھوٹی گواہی کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
