صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۲ - قسم اور گواہی میں احتیاط
گواہی اور قسم میں احتیاط: بہترین لوگوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۵۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمارے بڑے بزرگ شہادت اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا کہ کسی کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہوگی اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی۔ اس بیان میں گواہی اور قسم کے معاملے میں بے احتیاطی کی طرف اشارہ ہے۔ آخر میں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بتایا کہ ہمارے بڑے بزرگ شہادت اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر بھی بچوں کو روکتے تھے۔ یہ حدیث سچائی، قسم، گواہی، اور زبان کی احتیاط کو بہت اہم بناتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بہترین زمانوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
- گواہی اور قسم میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- زبان سے عہد اور شہادت کے الفاظ احتیاط سے نکالنے چاہئیں۔
- بزرگ بچوں کو بھی ایسے الفاظ میں احتیاط سکھاتے تھے۔
