صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۱ - بہترین زمانہ اور امانت
بہترین زمانہ اور امانت: خیر القرون کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۵۱
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ . قَالَ عِمْرَانُ : لَا أَدْرِي ، أَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يَفُونَ ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ " .
عمران بن حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ (صحابہ) ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین) پھر وہ لوگ جو اس کے بھی بعد آئیں گے۔ (تبع تابعین) عمران نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا (اپنے بعد) ذکر فرمایا یا تین کا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں گے، جن میں دیانت کا نام نہ ہو گا۔ ان سے گواہی دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے۔ نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے۔ مٹاپا ان میں عام ہو گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو اس کے بعد آئیں گے۔ راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا ذکر فرمایا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو خیانت کریں گے، ان پر امانت نہیں رکھی جائے گی، انہیں گواہی کے لیے نہیں کہا جائے گا مگر وہ گواہی دیں گے، نذریں مانیں گے مگر پوری نہیں کریں گے، اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔ یہ حدیث امانت، گواہی، نذر، اور بہترین نسلوں کی فضیلت کو سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ اور ابتدائی نسلوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- خیانت اور بے امانتی سے بچنے کی تنبیہ ہے۔
- بلا ضرورت گواہی دینے کی مذمت آئی ہے۔
- نذر مان کر پوری نہ کرنا قابل گرفت عمل ہے۔
